دوسالوں تک سماجی فاصلوں کو برقراررکھنا ہوگا‘ تحقیق کو درست مانا لیا جائے تو فضائی سفر‘مال بردار بحری جہاز اور پبلک ٹرانسپورٹ کی بحالی ممکن نہیں ہوگی
واشنگٹن۔15 اپریل۔2020ء) امریکی یونیورسٹی ہاروڈ کی ایک نئی تحقیق میں خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ لاک ڈاﺅن کے باجود کورونا وائرس کے پھیلنے کے پیش نظر 2022ءتک سوشل ڈسٹینسنگ کی ضرورت پڑ سکتی ہے کیونکہ وائرس کے اثرات کم از کم اگلے دو سال تک کرہ ارض پر رہنے کے امکانات ہیں. ہارورڈ یونیورسٹی کے محققین کے مطابق ٹھنڈے موسم میں ایک عام نزلہ، زکام کی صورت میں لگنے والا نیا نول کووڈ 19ایک موسمی وبا کی صورت اختیار کر سکتا ہے، بدلتے اور ہر سال آنے والے ٹھنڈے موسم میں جیسے دوسرے عام فلو، وائرل کی شکایت ہو جاتی ہے اسی طرح کورونا وائرس بھی ہر سال ٹھنڈے مہینوں میں پلٹ کر واپس آ سکتا ہے.

No comments:
Post a Comment